عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، المیادین چینل کی ویب گاہ نے لکھا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر حسین امیر عبداللہیان سے ملنے کے لئے براہ راست ایرانی دفتر خارجہ پہنچے ہیں۔
ادھر سعودی چینل کی ویب گاہ نے لکھا کہ بن فرحان اپنے ایرانی ہم منصب سے بات چیت کرنے کے بعد صدر اسلامی جمہوریہ ایران سید ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کریں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، دو طرفہ سمجھوتے اور تعلقات کی بحالی کے بعد، دو مرتبہ ـ بیجنگ اور کیپ ٹاؤن میں ـ ملاقات اور بات چیت کر چکے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے کیپ ٹاؤں میں امیر عبداللہیان کے ساتھ ملاقات کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ عنقریب تہران کا دورہ کریں گے۔
بعدازاں برقی اخبار "رأی الیوم" نے لبنان کے سیاسی ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ فیصل بن فرحان ایرانی صدر کے لئے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ایک پیغام بھی لے کر آ رہے ہیں، جس کا تعلق دو ملکوں کے تعلقات کے فروغ سے ہوگا۔
رأی الیوم نے لکھا تھا کہ بن فرحان ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی غرض سے ایرانی صدر اور دوسرے اعلی حکام سے ملاقات اور بات چیت کریں گے۔
مختصر سا تجزیہ:
سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام سید ابراہیم رئیسی کے نام
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آج ایران کے مہمان خصوصی کے طور پر تہران پہنچے ہیں اور جیسا کہ ذرائع نے کہا ہے، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان ایرانی صدر کے لئے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا ایک پیغام بھی لے کر آ رہے ہیں، جس کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے فروغ سے ہے۔
سعودی وزیر خارجہ گذشتہ مارچ 2023ع میں ـ بیجنگ میں ـ مذاکرات کے کئی خفیہ دور مکمل کرنے کے بعد دو ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان کے بعد تہران کے دورے پر آئے ہیں۔ سمجھوتے کے بعد 5 اپریل 2023ع کو دو وزرائے خارجہ نے بیجنگ میں ملاقات کی تھی، اور انھوں ںے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی بحالی اور سفارت کاروں کے تبادلے کے لئے تمہیدی اقدامات پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد تہران اور جدہ میں دو ملکوں کے سفراء متعین کئے گئے اور جدہ اور مشہد میں دو ملکوں کے قونصل خانے کھول دیئے گئے۔ تہران اور ریاض کے تعلقات میں سات سالہ تناؤ کے بعد، تعلقات کی بحالی کے عمل کا آغاز ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے دورہ چین سے ہؤا تھا، جس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے فاش کیا کہ سعودی راہنماؤں نے تہران اور ریاض کے دوران کشیدہ تعلقات کی گرہ کھولنے کے لئے ان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اس دورے میں ایران اور سعودی اختلافات کے حل کی پوری پوری کوشش کی؛ اور آیت اللہ رئیسی نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا جس کے بعد بغداد اور مسقط میں دو طرفہ مذاکرات کے بعد، دو طرفہ تعلقات کے بحالی کی کوششوں میں تیزی آئی۔
بدگمانیوں کا خاتمہ
آج سعودی عرب کے وزیر خارجہ تہران پہنچے ہیں، اور "بن فرحان" کا تہران کا دورہ اور دو ملکوں کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والی محاذ آرائی کے بعد، تعلقات کی بحالی، سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلقات کی بحالی اور مضبوطی کا عمل تیز رفتاری سے انجام کو پہنچا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے کئی ممالک کے حکام نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت پر بدگمانی اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ "ایران_سعودی" سمجھوتہ زیادہ عرصے تک نہیں چل سکے گا؛ لیکن سعودی وزیر خارجہ کی تہران آمد سے ان مایوس کن خیالات کی نفی ہوئی ہے۔ اور اس دورے سے واضح ہو چکا کہ فریقین باہمی تعاون اور تصادم پر مبنی رویوں سے پرہیز کا پختہ عزم کر چکے ہیں۔
بہرکیف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے دوبارہ بحالی کے اسی مختصر عرصے بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یمن میں طویل اور تھکا دینے والی جنگ، جس کا خاتمہ دور دور تک بھی نظر نہیں آرہا تھا، سیاسی حل کے دہانے پر ہے۔ اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان خطے کے دو اہم ممالک کی حیثیت سے تعلقات میں حیرت انگیز پیش رفت ہو رہی ہے جبکہ ریاض اور یمن کے انصار اللہ گروپ کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات جاری ہیں۔ سعودی ذرائع نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات ایک جامع سیاسی حل کے حصول کے لئے اہم حصول یابیوں پر مشتمل ہیں۔
سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل سے دوری
دوسری طرف سے ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عراق، پاکستان اور بھارت کا فوجی اتحاد ان کے ایجنڈے پر ہے۔ یہ اتحد ان ان اتحادوں کی جگہ لے سکتا ہے جنہیں امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اقدامات کے ضمن میں قائم کرنا چاہتا تھا اور ان کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو ہوا دینا تھا۔ چنانچہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ایران_سعودی سمجھوتہ خطے میں بھڑکتے ہوئے تنازعات کے خاتمے کا باعث ہوگا۔ سعودیوں کا خیال ہے کہ یہ سمجھوتہ سعودی سلامتی کے حوالے سے خلیج فارس میں اس کے ممالک کے مقاصد کے حصول میں ممد و معاون ہوگا۔
بہرصورت اسلامی جمہوریہ ایران کی دائمی اور اٹل پالیسی عرب ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی رہا ہے، اور یہ ممالک ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ اور ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا ایک سیدھا مطلب یہ ہے کہ سعودی راہنما امریکہ اور صہیونی ریاست سے دور ہو رہے ہیں جن کی بنیادی خارجہ پالیسی میں مسلم ممالک ـ بالخصوص ایران اور سعودی عرب ـ کے درمیان کشیدگی اور تناؤ پر استوار رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110